کمپنی نے آپ کا پاسپورٹ روک لیا ہے؟ یہ غیر قانونی ہے — اب کیا کریں

polish passports and travel documents on a table

خلیجی ممالک میں کام کرنے والے ہزاروں پاکستانی مزدوروں کے ساتھ ایک ہی کہانی دہرائی جاتی ہے۔ ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہی کمپنی کا آدمی کہتا ہے: “پاسپورٹ ہمیں دے دو، اقامہ بننے کے بعد واپس مل جائے گا۔” پھر مہینے گزر جاتے ہیں، اقامہ یا ریزیڈنسی کارڈ ہاتھ میں آ جاتا ہے، مگر پاسپورٹ دفتر کی الماری میں ہی پڑا رہتا ہے۔

سب سے پہلے یہ بات ذہن میں بٹھا لیں: پاسپورٹ آپ کی ذاتی ملکیت ہے۔ اسے آپ کی اپنی حکومت نے آپ کے نام جاری کیا ہے، کمپنی نے نہیں۔ خلیج کا کوئی ملک آجر کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ آپ کی رضامندی کے بغیر آپ کا پاسپورٹ اپنے قبضے میں رکھے۔ یہ “کمپنی کی پالیسی” نہیں ہوتی، یہ قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

گھبرانے کی ضرورت بھی نہیں۔ ہر ہفتے مزدور اپنے پاسپورٹ واپس لیتے ہیں — شور شرابے یا لڑائی سے نہیں، بلکہ ٹھنڈے دماغ سے، کاغذ پر، ایک ایک مرحلہ طے کر کے۔ اسی طریقے کی تفصیل نیچے دی جا رہی ہے۔

قانون اس بارے میں کیا کہتا ہے

متحدہ عرب امارات کی سرکاری معلوماتی ویب سائٹ پر صاف لکھا ہے کہ مزدوروں کے پاسپورٹ ضبط کرنا ممنوع ہے، اور ملک سے باہر جانے کے لیے کارکن کو آجر کی اجازت درکار نہیں ہوتی۔ شکایت وزارتِ افرادی قوت و توطین (MOHRE) کے پاس درج ہوتی ہے۔

قطر میں 2015ء کے قانون نمبر 21 کے تحت آجر کے لیے لازم ہے کہ اقامہ جاری یا تجدید کرانے کا کام مکمل ہوتے ہی پاسپورٹ کارکن کو واپس کر دے۔ صرف ایک صورت مستثنیٰ ہے: اگر کارکن خود تحریری طور پر درخواست کرے کہ کمپنی اس کا پاسپورٹ سنبھال کر رکھے — اور اس صورت میں بھی مانگنے پر فوراً واپس کرنا ضروری ہے۔

سعودی عرب میں محنت کے قانون کے تحت آجر کارکن کی رضامندی کے بغیر اس کا پاسپورٹ، اقامہ یا طبی بیمہ کارڈ اپنے پاس نہیں رکھ سکتا۔ کویت میں وزارتی فیصلے کے تحت نجی شعبے کے اداروں پر ملازمین کی سفری دستاویزات روکنے کی ممانعت ہے۔ بحرین اور عمان میں بھی پاسپورٹ کارکن کی ذاتی ملکیت شمار ہوتا ہے اور کمپنی اسے اپنے پاس نہیں رکھ سکتی۔

ان خلاف ورزیوں پر آجر کو جرمانہ ہو سکتا ہے، مگر جرمانے کی رقم اور تفصیلات وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ اس لیے کسی فورم یا واٹس ایپ پیغام پر لکھی ہوئی رقم پر یقین کرنے کے بجائے متعلقہ ملک کے سرکاری پورٹل سے تازہ معلومات لیں۔

کب پاسپورٹ دینا معمول کی بات ہے

ہر بار پاسپورٹ مانگنا بدنیتی نہیں ہوتی۔ ویزا لگوانے، اقامہ یا ریزیڈنسی کارڈ بنوانے اور کچھ سرکاری مراحل میں اصل پاسپورٹ کی واقعی ضرورت پڑتی ہے۔ لیکن یاد رکھیں: ایسا کام دنوں کا ہوتا ہے، مہینوں کا نہیں۔ کام ختم، پاسپورٹ واپس۔

خطرے کی علامتیں

اگر ان میں سے کوئی بات آپ کے ساتھ ہو رہی ہے تو معاملہ سرکاری کارروائی کا نہیں، بلکہ آپ پر قابو رکھنے کا ہے:

  • ہفتے مہینوں میں بدل جائیں اور جواب ہر بار مبہم ہو — “ابھی حکومت کے پاس ہے”، “اگلے ہفتے آ جائے گا”۔
  • اقامہ یا ریزیڈنسی کارڈ آپ کو مل چکا ہو، پھر بھی پاسپورٹ واپس نہ کیا جائے۔
  • پاسپورٹ واپسی کو کسی شرط سے جوڑا جائے — استعفیٰ دو، پیسے جمع کراؤ، یا فلاں کاغذ پر دستخط کرو۔
  • ایسے کاغذ پر دستخط کرنے کو کہا جائے جس میں لکھا ہو کہ آپ نے “اپنی مرضی سے” پاسپورٹ کمپنی کے حوالے کیا ہے، حالانکہ آپ سے پوچھا تک نہیں گیا۔
  • آپ کے کئی ساتھیوں کے ساتھ بھی بالکل یہی سلوک ہو رہا ہو۔

پاسپورٹ واپس لینے کا طریقہ: چار قدم

پہلا قدم: تحریری درخواست دیں

زبانی بات کا کوئی ثبوت نہیں بنتا۔ ای میل، واٹس ایپ یا سادہ کاغذ پر مختصر اور شائستہ درخواست لکھیں: آپ اپنا پاسپورٹ واپس چاہتے ہیں، اور کسی سرکاری کارروائی کے لیے ضرورت پڑنے پر آپ خود اسے فوراً پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ نہ الزام لگائیں، نہ دھمکی دیں۔ تاریخ لکھیں اور اپنے پاس نقل محفوظ رکھیں۔ اگر جواب نہ آئے تو ایک ہفتے بعد یاد دہانی بھیج دیں — یہی “کاغذی ریکارڈ” بعد میں آپ کا سب سے بڑا سہارا بنتا ہے۔

دوسرا قدم: کاغذات جمع کریں

  • پاسپورٹ کے پہلے صفحے کی تصویر یا پاسپورٹ نمبر (اگر پہلے سے موبائل میں محفوظ ہو)۔
  • اقامہ یا ریزیڈنسی کارڈ کی نقل۔
  • ملازمت کا معاہدہ اور تنخواہ کی رسیدیں یا بینک اسٹیٹمنٹ۔
  • آپ کی بھیجی ہوئی درخواستیں اور کمپنی کے جوابات کے اسکرین شاٹ۔
  • ان ساتھیوں کے نام جن کے پاسپورٹ بھی روکے گئے ہیں۔

یہ سب چیزیں اپنے ذاتی ای میل پر بھیج کر محفوظ کر لیں۔ موبائل گم ہو جائے یا کمپنی موبائل لے لے، تب بھی ریکارڈ آپ کے پاس رہے گا۔

تیسرا قدم: لیبر اتھارٹی میں شکایت درج کرائیں

ہر خلیجی ملک میں مزدور خود شکایت درج کرا سکتا ہے، اور اس کی فیس نہیں ہوتی۔ شکایت میں جذبات کے بجائے حقائق لکھیں: پاسپورٹ کس تاریخ کو لیا گیا، کیا وجہ بتائی گئی، آپ نے کب کب واپسی کی درخواست کی، اور کیا جواب ملا۔ شکایت درج ہونے کے بعد ملنے والا ریفرنس نمبر ضرور سنبھال کر رکھیں — آگے ہر بات چیت اسی نمبر سے ہوگی۔

چوتھا قدم: سفارت خانے سے رابطہ کریں

اپنے ملک کے سفارت خانے یا قونصل خانے کے کمیونٹی ویلفیئر یا لیبر ونگ سے رجوع کریں۔ وہ کمپنی سے براہِ راست رابطہ کر سکتے ہیں، مقامی محکموں تک معاملہ پہنچا سکتے ہیں، اور اگر پاسپورٹ واقعی نہ ملے تو نئی سفری دستاویز جاری کرانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ جاتے وقت اپنے سارے کاغذات اور شکایت کا ریفرنس نمبر ساتھ لے جائیں۔

کس ملک میں کہاں شکایت کریں

  • سعودی عرب: وزارتِ انسانی وسائل و سماجی ترقی، یا “قوا” پلیٹ فارم۔
  • متحدہ عرب امارات: وزارتِ افرادی قوت و توطین (MOHRE)۔
  • قطر: وزارتِ محنت۔
  • کویت: پبلک اتھارٹی فار مین پاور۔
  • بحرین: لیبر مارکیٹ ریگولیٹری اتھارٹی (LMRA)۔
  • عمان: وزارتِ محنت اور رائل عمان پولیس۔

سرکاری ویب سائٹیں یہ ہیں: hrsd.gov.sa اور qiwa.sa (سعودی عرب)، mohre.gov.ae (امارات)، adlsa.gov.qa (قطر)، manpower.gov.kw (کویت)، lmra.gov.bh (بحرین)، rop.gov.om (عمان)۔ امارات میں محنت سے متعلق شکایات اور رہنمائی کے لیے مفت نمبر 80084 بھی سرکاری طور پر دیا گیا ہے۔ باقی ممالک کے موجودہ نمبر اور شکایت کے طریقے انہی سرکاری ویب سائٹوں سے دیکھ لیں — ایجنٹوں یا سوشل میڈیا پر گھومتے پرانے نمبروں پر بھروسہ نہ کریں۔

جب تک معاملہ حل نہ ہو، یہ احتیاطیں کریں

  • کوئی ایسا کاغذ ہرگز نہ دستخط کریں جو آپ پڑھ یا سمجھ نہ سکیں۔ ترجمہ مانگیں، اور نقل لیے بغیر دفتر سے نہ نکلیں۔
  • کام پر باقاعدگی سے جاتے رہیں۔ غصے میں کام چھوڑ دینا آپ کو ہی نقصان پہنچاتا ہے، کیونکہ کمپنی آپ کے خلاف غیر حاضری یا فرار کی رپورٹ درج کرا سکتی ہے۔
  • کسی ایسے شخص کو پیسے نہ دیں جو “سفارش سے پاسپورٹ نکلوانے” کا دعویٰ کرے۔ سرکاری شکایت مفت ہے۔
  • اپنا موبائل نمبر چالو رکھیں اور اہم کاغذات کی نقلیں کسی قابلِ اعتماد ساتھی یا گھر والوں کے پاس بھی رکھوا دیں۔

متعلقہ رہنمائی

اگر ساتھ ہی تنخواہ بھی رکی ہوئی ہے تو تنخواہ کی شکایت درج کرانے کا طریقہ پڑھیں۔ اگر کمپنی آپ کے خلاف فرار یا حروب کی رپورٹ کی دھمکی دے رہی ہے تو حروب اور ابسکونڈنگ رپورٹ کی رہنمائی دیکھیں۔ اور اگر آپ کمپنی بدلنے کا سوچ رہے ہیں تو کفالت کی منتقلی سے متعلق تفصیل کام آئے گی۔ (یہ تینوں مضامین فی الحال انگریزی میں ہیں۔)

آخری بات: پاسپورٹ آپ کا ہے، اور اسے واپس مانگنا آپ کا حق ہے، کوئی احسان نہیں۔ صبر سے، تحریری طور پر اور صحیح دفتر کے ذریعے قدم اٹھائیں تو راستہ نکل آتا ہے۔ یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے، قانونی مشورہ نہیں — قوانین، فیس اور طریقۂ کار بدلتے رہتے ہیں، اس لیے کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اپنے ملک کے سرکاری پورٹل سے تصدیق ضرور کر لیں۔

From Gulf Desi Hub

Hiring workers from India, Pakistan, Bangladesh, Nepal or Sri Lanka?

Post your vacancy here for free. We check the company before a listing goes live, and no worker is ever asked to pay to apply.

Post a Job — Free

Leave a Reply